31 اکتوبر 2021 - 10:39
آیت اللہ رمضانی: مزاحمتی فکر کو متعارف کرنے کے لیے فن و ہنر کے ہتھیار کا استعمال کیا جائے

آیت اللہ رمضانی نے کہا: ہم مختلف انیمیشن تیار کر کے اسلامی اور مزاحمتی فکر کو فن و ہنر کی شکل دیں سکتے ہیں اور گرانقدر فکر کو دنیا میں پیش کر سکتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے جنوبی لبنان میں میلیٹا میوزیم کے باغ کا دورہ کرتے ہوئے، فلسفہ زندگی کو بیان کرنے میں فن و ہنر کی اہمیت پر زور دیا اور کہا: مغربی فلم انڈسٹری بہت گہرائی کے ساتھ فلسفی فلمیں تیار کر کے معاشرے میں پیش کرتی ہے تاکہ اپنے مقاصد کے تحت اس فکر کو معاشرے میں دے سکیں جو وہ چاہتے ہیں۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: ہم مختلف انیمیشن تیار کر کے اسلامی اور مزاحمتی فکر کو فن و ہنر کی شکل دیں سکتے ہیں اور گرانقدر فکر کو دنیا میں پیش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے ہنری آثار کی پیداوار میں مغرب کے متعصبانہ اہداف کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ہالیوڈ کے بعض آثار مہدویت مخالف فکر کو پیش کرتے ہیں، ہنری کاموں کی بہت اہمیت ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ مسلمانوں کی اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔ مغرب اپنے ہنری کاموں اور میڈیا کے ذریعے اسلامی زندگی کو بدلنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرگرمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اسمبلی پہلے کی نسبت کافی ترقی کر چکی ہے، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، ثقلین سیٹلائیٹ چینل، ویکی شیعہ انسائیکلوپیڈیا اور اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اس کے نمایاں کارنامے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ میلیٹا میوزیم کا باغ جنوبی لبنان میں اقلیم التفاح کی بلندیوں پر واقع ہے اس باغ میں بیروت پر صہیونی ریاست کے ناجائز قبضے کے مقابلے میں مزاحمت کی تاریخ اور ۲۰۰۰ میں ۳۳ روزہ جنگ اور لبنان کی آزادی کی منظر کشی کی گئی ہے۔ اس میوزیم میں میٹنگ ہال، جنگی ساز و سامان، تباہ شدہ اسرائیلی ٹینک اور صہیونی فوجیوں سے حاصل شدہ جنگی غنائم پر مشتمل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242